کلامِ آتشردیف ز
جوش و خروش پر ہے بہار چمن ہنوز
۱
جوش و خروش پر ہے بہار چمن ہنوزپیتے ہیں نوجوان شراب کہن ہنوز
۲
پاتا نہیں میں یار کو میل سخن ہنوزمعدوم ہے کمر کی طرح سے دہن ہنوز
۳
برسوں سے رو رہا ہوں شب و روز متصلہنستے ہیں مدتوں سے مرے زخم تن ہنوز
۴
رخسار یار پر نہیں آغاز خط ابھیدیکھا نہیں ان آنکھوں نے سورج گہن ہنوز
۵
انجام کار کا نہیں آتا خیال کچھغربت میں بھولے بیٹھے ہیں یار وطن ہنوز
۶
عالم ان ابرووں کی کجی کا جو ہے سو ہےبل کھا رہی ہے زلف شکن در شکن ہنوز
۷
خلعت کی کیا امید رکھیں آسماں سے ہماس نے تو داب رکھا ہے اپنا کفن ہنوز
۸
عالم حجاب یار کا تا حال ہے وہیخلوت نشیں ہے روشنیٔ انجمن ہنوز
۹
اپنے صفائے سینہ کا حیران کار ہےدیکھا نہیں ہے آئنے نے وہ بدن ہنوز
۱۰
ہر چند باغ دہر میں مدت سے ہوں مقیمآتشؔ نظر پڑا نہ وہ سیب ذقن ہنوز
۴۶ / ۱۰۵