کلامِ آتشردیف ف

رجوع بندہ کی ہے اس طرح خدا کی طرف

۱

رجوع بندہ کی ہے اس طرح خدا کی طرفپھرے ضمیر خبر جیسے مبتدا کی طرف

۲

بعید کیا ہے مروت سے تیری اے شہ حسننگاہ لطف سے دیکھے جو تو گدا کی طرف

۳

کہاں وہ زلف کہاں خون نافۂ آہوجو مشک سمجھے ہیں وہ لوگ ہیں خطا کی طرف

۴

الجھ کے شانے سے کھاتا ہے سیکڑوں جھٹکےقصور سے یہ ترے گیسوئے رسا کی طرف

۵

خدا نے درد محبت عطا کیا ہے جسےاسے توجہ خاطر نہیں دوا کی طرف

۶

ملا جو تم نے لہو دست و پا میں عاشق کانہ ہوگا میل طبیعت کو پھر حنا کی طرف

۷

کرے گا یار مری جنگ غیر میں امدادجو آشنا ہیں وہ ہوتے ہیں آشنا کی طرف

۸

فراق یار میں رہتا ہے یوں تصور گورخیال جیسے مسافر کا ہو سرا کی طرف

۹

نہ ہوگا ہم سفر روح پیکر خاکییہ سوئے ارض رواں ہوگا وہ سما کی طرف

۱۰

بہت خراب رہا بت کدے میں اے آتشؔخدا پرست ہے چل خانۂ خدا کی طرف

۴۷ / ۱۰۵