ہنر سے نیاریوں کے حال یہ ظاہر ہوا ہم کو
عزیز از جان نہ رکھیں داغ زلف و خط کیوں کریہ گل ہم نے کیے ہیں کس خس و خاشاک سے پیدا
About this couplet
This is couplet 4 of 4 in “ہنر سے نیاریوں کے حال یہ ظاہر ہوا ہم کو” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Khwaja Haidar Ali Atish's Urdu book Kalam-e-Atish (کلامِ آتش).
Read it in the poem۴ / ۴