کلامِ آتشمثنویات، مراثی و دیگر
ہمیشہ جوش گریہ سے رہا پانی میں اے آتش
۱
ہمیشہ جوش گریہ سے رہا پانی میں اے آتشکبھی تازہ نہ لیکن اپنے دل کا یہ کنول پایا
۲
مری آنکھوں کے آگے آئے گا کیا جوش میں دریاہمیشہ صورت ساحل ہے یاں آغوش میں دریا
۳
وہ حد کم ظرف ہیں جو ایک ساغر میں بہکتے ہیںنہیں قطہ بھی یاں ہنگام نوشا نوش میں دریا
۱۰۵ / ۱۰۵