کلامِ داغردیف الف

اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا

۱

اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کایاد آتا ہے ہمیں ہائے زمانا دل کا

۲

تم بھی منہ چوم لو بے ساختہ پیار آجائےمیں سناؤں جو کبھی دل سےفسانا دل کا

۳

ان حسینوں کا لڑکپن ہی رہے یا اللہہوش آتا ہے تو آتا ہے ستانا دل کا

۴

میری آغوش سے کیا ہی وہ تڑپ کر نکلےان کا جانا تھا الہٰی کہ یہ جانا دل کا

۵

حور کی شکل ہو تم نور کے پتلے ہو تماور اس پر تمہیں آتا ہے جلانا دل کا

۶

چھوڑ کر اس کو تیری بزم سے کیوں‌کر جاؤںاک جنازے کا اٹھانا ہے اٹھانا دل کا

۷

بے دلی کا جو کہا حال تو فرماتے ہیںکر لیا تو نے کہیں اور ٹھکانا دل کا

۸

بعد مدت کے یہ اے “داغ“ سمجھ میں‌آیاوہی دانا ہے کہا جس نے نہ مانا دل کا

۱ / ۱۷۹