قرینے سے عجب آراستہ قاتل کی محفل ہے

جھڑکتے ہو مجھے کیوں دور ہی سے پاس آنے دوبڑھا کر ہاتھ دل دیتا ہوں تم سمجھے ہو سائل ہے

About this couplet

This is couplet 15 of 17 in “⁨قرینے سے عجب آراستہ قاتل کی محفل ہے⁩” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Nawab Mirza Khan Dagh Dehlvi's Urdu book Kalam-e-Dagh (⁨کلامِ داغ⁩).

Read it in the poem

۱۵ / ۱۷