کلامِ داغردیف ب
میرے ہی دم سے مہر و وفا کا نشاں ہے اب
۱
میرے ہی دم سے مہر و وفا کا نشاں ہے ابتجھ سا اگر نہیں ہے تو مجھ سا کہاں ہے اب
۲
اس حال کو پہنچ گئیں دل کی خرابیاںتیرا مکاں ہے اب نہ خدا کا مکاں ہے اب
۳
جاتی ہے آدھی رات مگر اس کا کیا جوابگھبرا کے وہ یہ کہتے ہیں وقت اذاں ہے اب
۴
سینے سے میرے دست تسلی اٹھائیےیہ بھی دل نحیف کو بار گراں ہے اب
۵
دیکھو ذرا سی شرم نے سب کچھ مٹا دیاوہ آنکھ وہ نگاہ وہ چتون کہاں ہے اب
۶
کیا لطف دوستی کہ نہیں لطف دشمنیدشمن کو بھی جو دیکھیے پورا کہاں ہے اب
۷
تم کو یقیں نہیں تو نہ ہو اس کا کیا علاجکم بخت داغؔ تم سے بہت بد گماں ہے اب
۳۷ / ۱۷۹