کلامِ داغردیف ی

ہوش آتے ہی حسینوں کو قیامت آئی

۱

ہوش آتے ہی حسینوں کو قیامت آئیآنکھ میں فتنہ گری دل میں شرارت آئی

۲

کیا تصور ہے نہایت مجھے حیرت آئیآئنے میں بھی نظر تیری ہی صورت آئی

۳

اس ادا سے دم رفتار قیامت آئیایسے ہم کیوں نہ ہوئے ان کو یہ حسرت آئی

۴

روز محشر جو مری داد کی نوبت آئییہ گئی وہ گئی کب ہاتھ قیامت آئی

۵

اب اسی پر تو ہے تاکید وفاداری کیجب گیا جان سے میں غیر کی شامت آئی

۶

کہہ گئے طعن سے وہ آ کے مرے مرقد پرسونے والے تجھے کس طرح سے راحت آئی

۷

بن سنور کر جو وہ آئے تو یہ میں جان گیااب گئی جان گئی آئی طبیعت آئی

۸

رکھ دیا منہ پہ مرے ہاتھ شب وصل اس نےبے حجابی کے لیے کام شکایت آئی

۹

جب یہ کھاتا ہے مرا خون جگر کھاتا ہےدل بیمار کو کس چیز پہ رغبت آئی

۱۰

گرچہ از حد ہوں گنہ گار مسلمان تو ہوںپیچھے پیچھے مرے دوزح میں بھی جنت آئی

۱۱

میں ہوا شیفتہ ان پر وہ عدو پر شیداساتھ کے ساتھ ہی دونوں کی طبیعت آئی

۱۲

عمر بھر اس کو کلیجے سے لگائے رکھاتیرے بیمار کو جس درد میں لذت آئی

۱۳

ہجر میں جان نکلتی نہیں کیا آفت ہےمار کر آج اجل کو شب فرقت آئی

۱۴

اپنے دیوانوں کو دیکھا تو کہا گھبرا کریہ نئی وضع کی کس ملک سے خلقت آئی

۱۵

جذب دل کھینچ ہی لایا انہیں میرے در تکپاؤں پڑتی ہوئی ہرچند نزاکت آئی

۱۶

یوں تو پامال ہوئے سیکڑوں مٹنے والےپہلے گنتی میں جو آئی مری تربت آئی

۱۷

حشر کا وعدہ بھی کرتے نہیں وہ کہتے ہیںفرض کر لو جو کئی بار قیامت آئی

۱۸

داغؔ گھبراؤ نہیں اب کوئی دم کے دم میںلو مبارک ہو ترقی کی بھی ساعت آئی

۱۲۶ / ۱۷۹