کلامِ فانیردیف الف

خلق کہتی ہے جسے دل ترے دیوانے کا

۱

خلق کہتی ہے جسے دل ترے دیوانے کاایک گوشہ ہے یہ دنیا اسی ویرانے کا

۲

اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کازندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا

۳

حسن ہے ذات مری عشق صفت ہے میریہوں تو میں شمع مگر بھیس ہے پروانے کا

۴

کعبہ کو دل کی زیارت کے لیے جاتا ہوںآستانہ ہے حرم میرے صنم خانے کا

۵

مختصر قصۂ غم یہ ہے کہ دل رکھتا ہوںراز کونین خلاصہ ہے اس افسانے کا

۶

زندگی بھی تو پشیماں ہے یہاں لا کے مجھےڈھونڈتی ہے کوئی حیلہ مرے مر جانے کا

۷

تم نے دیکھا ہے کبھی گھر کو بدلتے ہوئے رنگآؤ دیکھو نہ تماشا مرے غم خانے کا

۸

اب اسے دار پہ لے جا کے سلا دے ساقییوں بہکنا نہیں اچھا ترے مستانے کا

۹

دل سے پہنچی تو ہیں آنکھوں میں لہو کی بوندیںسلسلہ شیشے سے ملتا تو ہے پیمانے کا

۱۰

ہڈیاں ہیں کئی لپٹی ہوئی زنجیروں میںلیے جاتے ہیں جنازہ ترے دیوانے کا

۱۱

وحدت حسن کے جلووں کی یہ کثرت اے عشقدل کے ہر ذرے میں عالم ہے پری خانے کا

۱۲

چشم ساقی اثر مئے سے نہیں ہے گل رنگدل مرے خون سے لبریز ہے پیمانے کا

۱۳

لوح دل کو غم الفت کو قلم کہتے ہیںکن ہے انداز رقم حسن کے افسانے کا

۱۴

ہم نے چھانی ہیں بہت دیر و حرم کی گلیاںکہیں پایا نہ ٹھکانا ترے دیوانے کا

۱۵

کس کی آنکھیں دم آخر مجھے یاد آئی ہیںدل مرقع ہے چھلکتے ہوئے پیمانے کا

۱۶

کہتے ہیں کیا ہی مزے کا ہے فسانہ فانیؔآپ کی جان سے دور آپ کے مر جانے کا

۱۷

ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانیؔزندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا

۱ / ۹۸