کلامِ فانیردیف الف
زیست کا حاصل بنایا دل جو گویا کچھ نہ تھا
۱
زیست کا حاصل بنایا دل جو گویا کچھ نہ تھاغم نے دل کو دل بنایا ورنہ کیا تھا کچھ نہ تھا
۲
وہ تو میرے سامنے تھے دیکھنے کی دیر تھیمیں نے آنکھیں بند کر لیں ورنہ پردا کچھ نہ تھا
۳
یا الم کوشی رہی یا خود فراموشی رہیدل کسی دن دل نہ تھا یا درد تھا یا کچھ نہ تھا
۴
کچھ سمجھ کر خود ہی ہم نے جان دے دی دل کے ساتھان کی نظروں کا ابھی ایسا تقاضا کچھ نہ تھا
۵
آپ کا دیوانہ تھا یہ ادعا باطل سہیفانیؔ دیوانہ دیوانہ بھی تھا یا کچھ نہ تھا
۲ / ۹۸