زیست کا حاصل بنایا دل جو گویا کچھ نہ تھا
کچھ سمجھ کر خود ہی ہم نے جان دے دی دل کے ساتھان کی نظروں کا ابھی ایسا تقاضا کچھ نہ تھا
About this couplet
This is couplet 4 of 5 in “زیست کا حاصل بنایا دل جو گویا کچھ نہ تھا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Shaukat Ali Khan Fani Badayuni's Urdu book Kalam-e-Fani (کلامِ فانی).
Read it in the poem۴ / ۵