کلامِ فانیردیف الف
تری ترچھی نظر کا تیر ہے مشکل سے نکلے گا
۱
تری ترچھی نظر کا تیر ہے مشکل سے نکلے گادل اس کے ساتھ نکلے گا اگر یہ دل سے نکلے گا
۲
شب غم میں بھی میری سخت جانی کو نہ موت آئیترا کام اے اجل اب خنجر قاتل سے نکلے گا
۳
نگاہ شوق میرا مدعا تو ان کو سمجھا دےمرے منہ سے تو حرف آرزو مشکل سے نکلے گا
۴
کہاں تک کچھ نہ کہیے اب تو نوبت جان تک پہنچیتکلف بر طرف اے ضبط نالہ دل سے نکلے گا
۵
تصور کیا ترا آیا قیامت آ گئی دل میںکہ اب ہر ولولہ باہر مزار دل سے نکلے گا
۶
نہ آئیں گے وہ تب بھی دل نکل ہی جائے گا فانیؔمگر مشکل سے نکلے گا بڑی مشکل سے نکلے گا
۳ / ۹۸