کلامِ فانیردیف الف
سنگ در دیکھ کے سر یاد آیا
۱
سنگ در دیکھ کے سر یاد آیاکوئی دیوانہ مگر یاد آیا
۲
پھر وہ انداز نظر یاد آیاچاک دل تا بہ جگر یاد آیا
۳
ذوق ارباب نظر یاد آیاسجدہ بے منت سر یاد آیا
۴
ہر تبسم پہ یہ کھاتا ہوں فریبکہ انہیں دیدۂ تر یاد آیا
۵
پھر ترا نقش قدم ہے درکارسجدۂ راہ گزر یاد آیا
۶
جمع کرتا ہوں غبار رہ دوستسر شوریدہ مگر یاد آیا
۷
ہائے وہ معرکۂ ناوک نازدل بچایا تو جگر یاد آیا
۸
آئینہ اب نہیں دیکھا جاتامیں بعنوان دگر یاد آیا
۹
درد کو پھر ہے مرے دل کی تلاشخانہ برباد کو گھر یاد آیا
۱۰
اس کو بھولے تو ہوئے ہو فانیؔکیا کروگے وہ اگر یاد آیا
۵ / ۹۸