کلامِ فانیردیف الف
خوشی سے رنج کا بدلا یہاں نہیں ملتا
خوشی سے رنج کا بدلا یہاں نہیں ملتاوہ مل گئے تو مجھے آسماں نہیں ملتا
ہزار ڈھونڈیئے اس کا نشاں نہیں ملتاجبیں ملے تو ملے آستاں نہیں ملتا
مجاز اور حقیقت کچھ اور ہے یعنیتری نگاہ سے تیرا بیاں نہیں ملتا
بھڑک کے شعلۂ گل تو ہی اب لگا دے آگکہ بجلیوں کو مرا آشیاں نہیں ملتا
وہ بدگماں کہ مجھے تاب رنج زیست نہیںمجھے یہ غم کہ غم جاوداں نہیں ملتا
تری تلاش کافی الجملہ ماحصل یہ ہےکہ تو یہاں نہیں ملتا وہاں نہیں ملتا
بتا اب اے جرس دور میں کدھر جاؤںنشان گرد رہ کارواں نہیں ملتا
مجھے بلا کے یہاں آپ چھپ گیا کوئیوہ میہماں ہوں جسے میزباں نہیں ملتا
تجھے خبر ہے ترے تیر بے پناہ کی خیربہت دنوں سے دل ناتواں نہیں ملتا
کسی نے تجھ کو نہ جانا مگر یہ کم جانایہ راز ہے کہ کوئی رازداں نہیں ملتا
مجھے عزیز سہی قدر دل تمہیں کیوں ہوکمی تو دل کی نہیں دل کہاں نہیں ملتا
دیار عمر میں اب قحط مہر ہے فانیؔکوئی اجل کے سوا مہرباں نہیں ملتا
۶ / ۹۸