کلامِ فانیردیف الف
بے خودی پہ تھا فانیؔ کچھ نہ اختیار اپنا
۱
بے خودی پہ تھا فانیؔ کچھ نہ اختیار اپناعمر بھر کیا ناحق ہم نے انتظار اپنا
۲
تاب ضبط غم نے بھی دے دیا جواب آخران کے دل سے اٹھتا ہے آج اعتبار اپنا
۳
عشق زندگی ٹھہرا لیکن اب یہ مشکل ہےزندگی سے ہوتا ہے عہد استوار اپنا
۴
شکوہ برملا کرتے خیر یہ تو کیا کرتےہاں مگر جو بن پڑتا شکوہ ایک بار اپنا
۵
غم ہی جی کا دشمن تھا غم سے دور رہتے تھےغم ہی رہ گیا آخر ایک غم گسار اپنا
۶
لے گیا چمن کو بھی موسم بہار آ کراب قفس کا گوشہ ہے حاصل بہار اپنا
۷
جھوٹ ہی سہی وعدہ کیوں یقیں نہ کر لیتےبات دل فریب ان کی دل امیدوار اپنا
۸
انقلاب عالم میں ورنہ دیر ہی کیا تھیان کے آستاں تک تھا خیر سے غبار اپنا
۹
دل ہے مضطرب فانیؔ آنکھ محو حیرت ہےدل نے دے دیا شاید آنکھ کو قرار اپنا
۱۴ / ۹۸