کلامِ فانیردیف الف
بجلیاں ٹوٹ پڑیں جب وہ مقابل سے اٹھا
۱
بجلیاں ٹوٹ پڑیں جب وہ مقابل سے اٹھامل کے پلٹی تھیں نگاہیں کہ دھواں دل سے اٹھا
۲
جلوہ محسوس سہی آنکھ کو آزاد تو کرقید آداب تماشا بھی تو محفل سے اٹھا
۳
پھر تو مضراب جنوں ساز انا لیلیٰ چھیڑہائے وہ شور انا القیس کہ محمل سے اٹھا
۴
اختیار ایک ادا تھی مری مجبوری کیلطف سعی عمل اس مطلب حاصل سے اٹھا
۵
عمر امید کے دو دن بھی گراں تھے ظالمبار فردا نہ ترے وعدۂ باطل سے اٹھا
۶
خبر قافلۂ گم شدہ کس سے پوچھوںاک بگولہ بھی نہ خاک رہ منزل سے اٹھا
۷
ہوش جب تک ہے گلا گھونٹ کے مر جانے کادم شمشیر کا احساں ترے بسمل سے اٹھا
۸
موت ہستی پہ وہ تہمت تھی کہ آساں نہ اٹھیزندگی مجھ پہ وہ الزام کہ مشکل سے اٹھا
۹
کس کی کشتی تہ گرداب فنا جا پہنچیشور لبیک جو فانیؔ لب ساحل سے اٹھا
۱۳ / ۹۸