کلامِ فانیردیف الف
اے اجل اے جان فانیؔ تو نے یہ کیا کر دیا
۱
اے اجل اے جان فانیؔ تو نے یہ کیا کر دیامار ڈالا مرنے والے کو کہ اچھا کر دیا
۲
جب ترا ذکر آ گیا ہم دفعتاً چپ ہو گئےوہ چھپایا راز دل ہم نے کہ افشا کر دیا
۳
کس قدر بے زار تھا دل مجھ سے ضبط شوق پرجب کہا دل کا کیا ظالم نے رسوا کر دیا
۴
یوں چرائیں اس نے آنکھیں سادگی تو دیکھیےبزم میں گویا مری جانب اشارا کر دیا
۵
دردمندان ازل پر عشق کا احساں نہیںدرد یاں دل سے گیا کب تھا کہ پیدا کر دیا
۶
دل کو پہلو سے نکل جانے کی پھر رٹ لگ گئیپھر کسی نے آنکھوں آنکھوں میں تقاضا کر دیا
۷
رنج پایا دل دیا سچ ہے مگر یہ تو کہوکیا کسی نے دے کے پایا کس نے کیا پا کر دیا
۸
بچ رہا تھا ایک آنسودار و گیر ضبط سےجوشش غم نے پھر اس قطرے کو دریا کر دیا
۹
فانیؔ مہجور تھا آج آرزو مند اجلآپ نے آ کر پشیمان تمنا کر دیا
۱۶ / ۹۸