کلامِ فانیردیف الف
شوق سے ناکامی کی بدولت کوچۂ دل ہی چھوٹ گیا
۱
شوق سے ناکامی کی بدولت کوچۂ دل ہی چھوٹ گیاساری امیدیں ٹوٹ گئیں دل بیٹھ گیا جی چھوٹ گیا
۲
فصل گل آئی یا اجل آئی کیوں در زنداں کھلتا ہےکیا کوئی وحشی اور آ پہنچا یا کوئی قیدی چھوٹ گیا
۳
لیجیے کیا دامن کی خبر اور دست جنوں کو کیا کہئےاپنے ہی ہاتھ سے دل کا دامن مدت گزری چھوٹ گیا
۴
منزل عشق پہ تنہا پہنچے کوئی تمنا ساتھ نہ تھیتھک تھک کر اس راہ میں آخر اک اک ساتھی چھوٹ گیا
۵
اس نے عدو کا سوگ کیا یاں اس سے وفا کی آس بندھیداغ تمنا رنگ حنا کی دیکھا دیکھی چھوٹ گیا
۶
فانیؔ ہم تو جیتے جی وہ میت ہیں بے گور و کفنغربت جس کو راس نہ آئی اور وطن بھی چھوٹ گیا
۱۷ / ۹۸