یہ کس قیامت کی بیکسی ہے زمیں ہی اپنا نہ یار میرا

قدم نکال اب تو گھر سے باہر جو دم بھی سینے سے سہل نکلےدکھا نہ اب انتظار اپنا لحد کو ہے انتظار میرا

About this couplet

This is couplet 6 of 7 in “⁨یہ کس قیامت کی بیکسی ہے زمیں ہی اپنا نہ یار میرا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Shaukat Ali Khan Fani Badayuni's Urdu book Kalam-e-Fani (⁨کلامِ فانی⁩).

Read it in the poem

۶ / ۷