کلامِ فانیردیف الف

یہ کس قیامت کی بیکسی ہے زمیں ہی اپنا نہ یار میرا

۱

یہ کس قیامت کی بیکسی ہے زمیں ہی اپنا نہ یار میرانہ خاطر بے قرار میری نہ دیدۂ اشک بار میرا

۲

نشان تربت عیاں نہیں ہے نہیں کہ باقی نشاں نہیں ہےمزار میرا کہاں نہیں ہے کہیں نہیں ہے مزار میرا

۳

وصال تیرا خیال تیرا جو ہو تو کیونکر نہ ہو تو کیونکرنہ تجھ پہ کچھ اختیار دل کا، نہ دل پہ کچھ اختیار میرا

۴

نگاہ دل دوز کی دہائی جمال جاں سوز کی دہائیرہ محبت میں غم نے لوٹا شکیب و صبر و قرار میرا

۵

میں درد فرقت سے جاں بلب ہوں تمہیں یقین وفا نہیں ہےمجھے نہیں اعتبار اپنا تمہیں نہیں اعتبار میرا

۶

قدم نکال اب تو گھر سے باہر جو دم بھی سینے سے سہل نکلےدکھا نہ اب انتظار اپنا لحد کو ہے انتظار میرا

۷

سنا ہے اٹھا ہے اک بگولہ جلو میں کچھ آندھیوں کو لے کرطواف دشت جنوں کو شاید گیا ہے فانیؔ غبار میرا

۲۱ / ۹۸