کلامِ فانیردیف الف
کسی کے ایک اشارے میں کس کو کیا نہ ملا
۱
کسی کے ایک اشارے میں کس کو کیا نہ ملابشر کو زیست ملی موت کو بہانہ ملا
۲
مذاق تلخ پسندی نہ پوچھ اس دل کابغیر مرگ جسے زیست کا مزا نہ ملا
۳
دبی زباں سے مرا حال چارہ ساز نہ کہہبس اب تو زہر ہی دے زہر میں دوا نہ ملا
۴
خدا کی دین نہیں ظرف خلق پر موقوفیہ دل بھی کیا ہے جسے درد کا خزانہ ملا
۵
دعا گدائے اثر ہے گدا پہ تکیہ نہ کرکہ اعتماد اثر کیا ملا ملا نہ ملا
۶
ظہور جلوہ کو ہے ایک زندگی درکارکوئی اجل کی طرح دیر آشنا نہ ملا
۷
تلاش خضر میں ہوں رو شناس خضر نہیںمجھے یہ دل سے گلہ ہے کہ رہنما نہ ملا
۸
نشان مہر ہے ہر ذرہ ظرف مہر نہیںخدا کہاں نہ ملا اور کہیں خدا نہ ملا
۹
مری حیات ہے محروم مدعائے حیاتوہ رہ گزر ہوں جسے کوئی نقش پا نہ ملا
۱۰
وہ نامراد اجل بزم یاس میں بھی نہیںیہاں بھی فانیؔ آوارہ کا پتا نہ ملا
۳۶ / ۹۸