کلامِ فانیردیف ت
ہو کاش وفا وعدۂ فردائے قیامت
۱
ہو کاش وفا وعدۂ فردائے قیامتآئے گی مگر دیکھیے کب آئے قیامت
۲
سنتا ہوں کہ ہنگامۂ دیدار بھی ہوگاایک اور قیامت ہے یہ بالائے قیامت
۳
ہم دل کو ان الفاظ سے کرتے ہیں مخاطباے جلوہ گہ انجمن آرائے قیامت
۴
اللہ بچائے غم فرقت وہ بلا ہےمنکر کی نگاہوں پہ بھی چھا جائے قیامت
۵
فانیؔ یہ مگر راہ محبت کی زمیں ہےہر ذرے میں ہے وسعت صحرائے قیامت
۳۷ / ۹۸