جینے کی ہے امید نہ مرنے کا یقیں ہے
کچھ مظہر باطن ہوں تو کچھ محرم ظاہرمیری ہی وہ ہستی ہے کہ ہے اور نہیں ہے
About this couplet
This is couplet 3 of 5 in “جینے کی ہے امید نہ مرنے کا یقیں ہے” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Shaukat Ali Khan Fani Badayuni's Urdu book Kalam-e-Fani (کلامِ فانی).
Read it in the poem۳ / ۵