کلامِ فانیردیف ے

جینے کی ہے امید نہ مرنے کا یقیں ہے

۱

جینے کی ہے امید نہ مرنے کا یقیں ہےاب دل کا یہ عالم ہے نہ دنیا ہے نہ دیں ہے

۲

گم ہیں رہ تسلیم میں طالب بھی طلب بھیسجدہ ہی در یار ہے سجدہ ہی جبیں ہے

۳

کچھ مظہر باطن ہوں تو کچھ محرم ظاہرمیری ہی وہ ہستی ہے کہ ہے اور نہیں ہے

۴

ایذا کے سوا لذت ایذا بھی ملے گیکیوں جلوہ گہ ہوش یہاں دل بھی کہیں ہے

۵

مایوس سہی حسرتئ موت ہوں فانیؔکس منہ سے کہوں دل میں تمنا ہی نہیں ہے

۷۵ / ۹۸