ابتدائے عشق ہے لطف شباب آنے کو ہے
ہائے کیسی کشمکش ہے یاس بھی ہے آس بھیدم نکل جانے کو ہے خط کا جواب آنے کو ہے
About this couplet
This is couplet 4 of 12 in “ابتدائے عشق ہے لطف شباب آنے کو ہے” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Shaukat Ali Khan Fani Badayuni's Urdu book Kalam-e-Fani (کلامِ فانی).
Read it in the poem۴ / ۱۲