کلامِ فانیردیف ے
ابتدائے عشق ہے لطف شباب آنے کو ہے
ابتدائے عشق ہے لطف شباب آنے کو ہےصبر رخصت ہو رہا ہے اضطراب آنے کو ہے
قبر پر کس شان سے وہ بے نقاب آنے کو ہےآفتاب صبح محشر ہم رکاب آنے کو ہے
مجھ تک اس محفل میں پھر جام شراب آنے کو ہےعمر رفتہ پلٹی آتی ہے شباب آنے کو ہے
ہائے کیسی کشمکش ہے یاس بھی ہے آس بھیدم نکل جانے کو ہے خط کا جواب آنے کو ہے
خط کے پرزے نامہ بر کی لاش کے ہم راہ ہیںکس ڈھٹائی سے مرے خط کا جواب آنے کو ہے
ناامیدی موت سے کہتی ہے اپنا کام کرآس کہتی ہے ٹھہر خط کا جواب آنے کو ہے
روح گھبرائی ہوئی پھرتی ہے میری لاش پرکیا جنازے پر میرے خط کا جواب آنے کو ہے
بھر کے ساقی جام مے اک اور لا اور جلد لاان نشیلی انکھڑیوں میں پھر حجاب آنے کو ہے
خانۂ تصویر میں آنے کو ہے تصویر یارآئنے میں قد آدم آفتاب آنے کو ہے
پھر حنائی ہونے والے ہیں مرے قاتل کے ہاتھپھر زبان تیغ پر رنگ شہاب آنے کو ہے
گدگداتا ہے تصور چٹکیاں لیتا ہے دردکیا کسی بے خواب کی آنکھوں میں خواب آنے کو ہے
دیکھیے موت آئے فانیؔ یا کوئی فتنہ اٹھےمیرے قابو میں دل بے صبر و تاب آنے کو ہے
۷۷ / ۹۸