خود مسیحا خود ہی قاتل ہیں تو وہ بھی کیا کریں
خون کے چھینٹوں سے کچھ پھولوں کے خاکے ہی سہیموسم گل آ گیا زنداں میں بیٹھے کیا کریں
About this couplet
This is couplet 4 of 9 in “خود مسیحا خود ہی قاتل ہیں تو وہ بھی کیا کریں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Shaukat Ali Khan Fani Badayuni's Urdu book Kalam-e-Fani (کلامِ فانی).
Read it in the poem۴ / ۹