کلامِ فانیردیف ن

خود مسیحا خود ہی قاتل ہیں تو وہ بھی کیا کریں

۱

خود مسیحا خود ہی قاتل ہیں تو وہ بھی کیا کریںزخم پیدا کریں یا زخم دل اچھا کریں

۲

دل رہے آلودہ دامن اور ہم دیکھا کریںآج اے اشک ندامت آ تجھے دریا کریں

۳

جسم آزادی میں پھونکی تو نے مجبوری کی روحخیر جو چاہا کیا اب یہ بتا ہم کیا کریں

۴

خون کے چھینٹوں سے کچھ پھولوں کے خاکے ہی سہیموسم گل آ گیا زنداں میں بیٹھے کیا کریں

۵

جا بجا تغییر حال دل کے چرچے ہیں تو ہوںہم ہوئے رسوا مگر اب ہم کسے رسوا کریں

۶

ہاں نہیں شرط مروت حسرت تاثیر دردرحم آ ہی جائے گا ان سے تقاضا کیا کریں

۷

شوق نظارہ سلامت ہے تو دیکھا جائے گاان کو پردہ ہی اگر منظور ہے پردا کریں

۸

ظرف ویرانہ بہ قدر ہمت وحشت نہیںلاؤ ہر ذرہ میں پیدا وسعت صحرا کریں

۹

مرگ بے ہنگام فانیؔ وجہ تسکیں ہو چکیزندگی سے آپ گھبراتے ہیں گھبرایا کریں

۵۱ / ۹۸