کلامِ فانیمثنویات، مراثی و دیگر

اپنی جنت مجھے دکھلا نہ سکا تو واعظ

۱

اپنی جنت مجھے دکھلا نہ سکا تو واعظکوچۂ یار میں چل دیکھ لے جنت میری

۲

ساری دنیا سے انوکھی ہے زمانے سے جدانعمت خاص ہے اللہ رے قسمت میری

۳

شکوۂ ہجر پہ سر کاٹ کے فرماتے ہیںپھر کروگے کبھی اس منہ سے شکایت میری

۴

تیری قدرت کا نظارہ ہے مرا عجز گناہتیری رحمت کا اشارہ ہے ندامت میری

۵

لو تبسم بھی شریک نگہ ناز ہواآج کچھ اور بڑھا دی گئی قیمت میری

۶

فیض یک لمحۂ دیدار سلامت فانیؔغم کہ ہر روز ہے بڑھتی ہوئی دولت میری

۹۶ / ۹۸