کلامِ فانیمثنویات، مراثی و دیگر

مر کے ٹوٹا ہے کہیں سلسلۂ قید حیات

۱

مر کے ٹوٹا ہے کہیں سلسلۂ قید حیاتمگر اتنا ہے کہ زنجیر بدل جاتی ہے

۲

اثر عشق تغافل بھی ہے بیداد بھی ہےوہی تقصیر ہے تعزیر بدل جاتی ہے

۳

کہتے کہتے مرا افسانہ گلہ ہوتا ہےدیکھتے دیکھتے تقدیر بدل جاتی ہے

۴

روز ہے درد محبت کا نرالا اندازروز دل میں تری تصویر بدل جاتی ہے

۵

گھر میں رہتا ہے ترے دم سے اجالا ہی کچھ اورمہ و خورشید کی تنویر بدل جاتی ہے

۶

غم نصیبوں میں ہے فانیؔ غم دنیا ہو کہ عشقدل کی تقدیر سے تدبیر بدل جاتی ہے

۹۷ / ۹۸