کلامِ فانیمثنویات، مراثی و دیگر

یوم یادگار سر سیدؔ در دکن

۱

جو شمع علم مغرب سید نے کی تھی روشنبکھری ہوئی ہیں جس کی کرنیں ہر انجمن میں

۲

اس شمع علم و فن کی کچھ منتشر شعاعیںیاران بزم تم ہو اس گوشۂ دکن میں

۳

لیکن یہ یاد رکھو سچی شعاع وہ ہےآنکھوں کا نور بن کر پھیلے جو مرد و زن میں

۴

جو شمع سے نکل کر دنیا کو جگمگا دےجو روح تازہ پھونکے ہر پیکر کہن میں

۵

ماحول کے اثر سے آئے نہ فرق لازمگلزار کی کرن اور کہسار کی کرن میں

۶

اور یہ نہیں تو پھر تم مٹی کا وہ دیا ہوافسردہ نور جس کا محدود ہو لگن میں

۷

سیدؔ نے نسبتوں کے دعوے تو سچ ہیں لیکناک پہلوئے عمل بھی درکار ہے سخن میں

۹۸ / ۹۸