کلامِ فانیرباعیات
اب یہ بھی نہیں کہ نام تو لیتے ہیں
۱
اب یہ بھی نہیں کہ نام تو لیتے ہیںدامن فقط اشکوں سے بھگو لیتے ہیںاب ہم ترا نام لے کے روتے بھی نہیںسنتے ہیں ترا نام تو رو لیتے ہیں
۹۲ / ۹۸
کلامِ فانیرباعیات
اب یہ بھی نہیں کہ نام تو لیتے ہیںدامن فقط اشکوں سے بھگو لیتے ہیںاب ہم ترا نام لے کے روتے بھی نہیںسنتے ہیں ترا نام تو رو لیتے ہیں
۹۲ / ۹۸