کلامِ فانیردیف ے

ہم موت بھی آئے تو مسرور نہیں ہوتے

۱

ہم موت بھی آئے تو مسرور نہیں ہوتےمجبور غم اتنے بھی مجبور نہیں ہوتے

۲

دل ہی میں نہیں رہتے آنکھوں میں بھی رہتے ہوتم دور بھی رہتے ہو تو دور نہیں ہوتے

۳

پڑتی ہیں ابھی دل پر شرمائی ہوئی نظریںجو وار وہ کرتے ہیں بھرپور نہیں ہوتے

۴

امید کے وعدوں سے جی کچھ تو بہلتا تھااب یہ بھی ترے غم کو منظور نہیں ہوتے

۵

ارباب محبت پر تم ظلم کے بانی ہویہ ورنہ محبت کے دستور نہیں ہوتے

۶

کونین پہ بھاری ہے اللہ رے غرور ان کااتنے بھی ادا والے مغرور نہیں ہوتے

۷

ہے عشق ترا فانیؔ تشہیر بھی شہرت بھیرسوائے محبت یوں مشہور نہیں ہوتے

۹۱ / ۹۸