دیوانِ غالب کاملردیف الف

فرو پیچیدنی ہے فرش بزمِ عیش گستر کا

۱

فرو پیچیدنی ہے فرش بزمِ عیش گستر کادریغا! گردش آموزِ فلک ہے، دور ساغر کا

۲

خطِ نوخیز کی، آئینے میں دی کس نے، آرائشکہ ہے تہ بندیٔ پر ہائے طوطی رنگ جوہر کا

۳

گیا جو نامہ بر، واں سے بہ رنگِ باختہ آیاخطوطِ روئے قالیں، نقش ہے پشتِ کبوتر کا

۴

شکستِ گوشہ گیراں، ہے محرم کو حاصل گردشصدف سے آسیائے آب میں ہے دانہ گوہر کا

۵

فزوں ہوتا ہے ہر دم جوشِ خونباری، تماشا ہےنفس کرتا ہے رگ ہائے مژہ پر کام نشتر کا

۶

خیالِ شربتِ عیسیٰ، گدازِ تر جبینی ہےاسدؔ! ہوں مستِ دریا، بخشیٔ ساقیٔ کوثر کا

۶ / ۱۹۳