دیوانِ غالب کاملردیف ے

صبح سے معلوم، آثارِ ظہورِ شام، ہے

۱

صبح سے معلوم، آثارِ ظہورِ شام، ہےغافلاں، آغازِ کار، آئینۂ انجام ہے

۲

بس کہ ہے صیاد راہِ عشق میں محوِ کمیںجادۂ رہ سر بہ سر، مژگانِ چشمِ دام ہے

۳

بس کہ تیرے جلوۂ دیدار کا ہے اشتیاقہر بتِ خرشید طلعت، آفتابِ بام ہے

۴

مستعدِ قتلِ یک عالم ہے جلاّدِ فلککہکشاں موجِ شفق میں تیغِ خوں آشام ہے

۵

کیا کمالِ عشق نقص آبادِ گیتی میں ملےپختگی ہائے تصور، یاں خیالِ خام ہے

۶

ہو جہاں، وہ ساقیٔ خرشید رُو، مجلس فروزواں، اسدؔ، تارِ شعاعِ مہر خطِّ جام ہے

۱۱۶ / ۱۹۳