دیوانِ غالب کاملردیف ے

کاشانۂ ہستی کہ بر انداختنی ہے

۱

کاشانۂ ہستی کہ بر انداختنی ہےیاں سوختنی اور وہاں ساختنی ہے

۲

ہے شعلۂ شمشیرِ فنا، حوصلہ پردازاے داغِ تمنا، سپر انداختنی ہے

۳

جز خاک بہ سر کردنِ بے فائدہ حاصل؟ہر چند بہ میدانِ ہوس تاختنی ہے

۴

اے بے ثمراں! حاصلِ تکلیفِ دمیدنگردن، بہ تماشائے گل، افراختنی ہے

۵

ہے سادگیٔ ذہن، تمنائے تماشاجائے کہ، اسدؔ، رنگِ چمن باختنی ہے

۱۳۰ / ۱۹۳