دیوانِ غالب کاملردیف ے
اس قامتِ رعنا کی جہاں جلوہ گری ہے
۱
اس قامتِ رعنا کی جہاں جلوہ گری ہےتسلیم فروشی، روشِ کبک دری ہے
۲
شرمندہ الفت ہوں مداوا طلبی سےہر قطرہ شربت مجھے اشکِ شکری ہے
۳
سرمایہ وحشت ہے، دلا، سایہ گل زارہر سبزہ نو خاستہ یاں بالِ پری ہے
۴
روشن ہوئی یہ بات دمِ نزع کہ آخرفانوس، کفن بہرِ چراغِ سحری ہے
۵
ہم آئے ہیں، غالبؔ، رہ اقلیمِ عدم سےیہ تیرگی حالِ لباسِ سفری ہے
۱۴۵ / ۱۹۳