دیوانِ غالب کاملردیف ے

وہ نہا کر آبِ گل سے، سایہ گل کے تلے

۱

وہ نہا کر آبِ گل سے، سایہ گل کے تلےبال کس گرمی سے سِکھلاتا تھا، سنبل کے تلے

۲

کثرتِ جوشِ سویدا سے نہیں تل کی جگہخال کب مشاطہ دے سکتی ہے کاکل کے تلے

۳

بس کہ خوباں باغ کو دیتے ہیں وقتِ مے شکستبال اگ جاتا ہے شیشے کا رگِ گل کے تلے

۴

ہے پر افشانِ تپیدن ہا بہ تکلیفِ ہوسورنہ صد گل زار ہے یک بالِ بلبل کے تلے

۵

پے بہ مقصد بردنی ہے خضرِ مے سے، اے اسدؔجادہ منزل ہے خطِ ساغر مل کے تلے

۱۵۴ / ۱۹۳