دیوانِ غالب کاملردیف د
بس کہ وہ پا کوبیاں در پردۂ وحشت ہیں یاد
۱
بس کہ وہ پا کوبیاں در پردۂ وحشت ہیں یادہے غلافِ دفچۂ خورشید، ہر یک گرد باد
۲
طرفہ موزونی ہے صرفِ جنگجوئی ہائے یارہے سرِ مصراعِ صافِ تیغ، خنجر، مستزاد
۳
ہاتھ آیا زخمِ تیغِ یار سا پہلو نشیںکیوں نہ ہو وے آج کے دن، بے کسی کی روح شاد
۴
کیجے آہوئے ختن کو خضرِ صحرائے طلبمشک ہے سنبلستانِ زلف ہیں، گردِ سواد
۵
ہم نے سو زخمِ جگر پر بھی زباں پیدا نہ کیگل ہوا ہے ایک زخمِ سینہ پر خواہانِ داد
۶
بس کہ ہیں در پردہ مصروفِ سیہ کاری تمامآستر ہے خرقۂ زہاد کا، صوفِ مداد
۷
تیغ در کف، کف بہ لب، آتا ہے قاتل اس طرفمژدہ باد، اے آرزوئے مرگِ غالبؔ، مژدہ باد
۳۶ / ۱۹۳