دیوانِ غالب کاملردیف غ
عشاق اشکِ چشم سے دھوویں ہزار داغ
۱
عشاق اشکِ چشم سے دھوویں ہزار داغدیتا ہے اور، جوں گل و شبنم، بہار داغ
۲
جوں چشمِ، باز ماندہ ہے ہر یک بہ سوئے دلرکھتا ہے داغِ تازہ کا یاں انتظار، داغ
۳
بے لالہ عارضاں مجھے گل گشتِ باغ میںدیتی ہے، گرمیٔ گل و بلبل، ہزار داغ
۴
جوں اعتماد نامہ و خط کا ہو مہر سےیوں عاشقوں میں ہے سببِ اعتبار، داغ
۵
ہوتے ہیں محو جلوۂ خور سے، ستارگاںدیکھ اُس کو دل سے مٹ گئے بے اختیار داغ
۶
وقتِ خیالِ جلوۂ حسنِ بتاں اسدؔدکھلائے ہے مجھے دو جہاں لالہ زار داغ
۵۳ / ۱۹۳