دیوانِ غالب کاملردیف ہ
خلق ہے صفحۂ عبرت سے سبق نا خواندہ
۱
خلق ہے صفحۂ عبرت سے سبق نا خواندہورنہ ہے چرخ و زمیں یک ورقِ گرداندہ
۲
دیکھ کر بادہ پرستوں کی دل افسردگیاںموجِ مے، مثلِ خطِ جام، ہے بر جا ماندہ
۳
خواہشِ دل ہے زباں کو سببِ گفت و بیاںہے، سخن، گرد ز دامانِ ضمیر افشاندہ
۴
کوئی آگاہ نہیں باطنِ ہم دیگر سےہے، ہر اک فرد جہاں میں ورقِ ناخواندہ
۵
حیف! بے حاصلیٔ اہلِ ریا پر، غالبؔیعنی ہیں ماندہ ازاں سو و ازیں سو راندہ
۹۴ / ۱۹۳