از آنجا کہ حسرت کشِ یار ہیں ہم
رسیدن گلِ باغ واماندگی ہےعبث محفل آرائے رفتار ہیں ہم
Editors' notes
شعر: نسخۂ حمیدیہ میں بھی یہ شعر بعینہٖ درج ہے جیسا کہ اس نسخۂ نظامی میں، مگر نسخۂ رضا میں یہ شعر دونوں مصرعوں کے دو لفظوں کے اختلاف کے ساتھ یوں درج ہے: ؎ رمیدن گلِ باغِ واماندگی ہے عبث محمل آرائے رفتار ہیں ہم — جویریہ مسعود
About this couplet
This is couplet 2 of 8 in “از آنجا کہ حسرت کشِ یار ہیں ہم” in the section Ghazals — Radeef Meem, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib Kamil (دیوانِ غالب کامل).
Read it in the poem۲ / ۸