دیوانِ غالب کاملردیف ن
طاؤس نمط، داغ کے گر رنگ نکالوں
۱
طاؤس نمط، داغ کے گر رنگ نکالوںیک فردِ نسب نامۂ نیرنگ نکالوں
۲
کُو تیزیٔ رفتار؟ کہ صحرا سے زمیں کوجوں قمریٔ بسمل، تپش آہنگ نکالوں
۳
دامانِ شفق، طرفِ نقابِ مہِ نو ہےناخن کو جگر کاوی میں بے رنگ نکالوں
۴
کیفیتِ دیگر ہے، فشارِ دلِ خونیں!یک غنچہ سے صد خُمِ مے گل رنگ نکالوں
۵
پیمانۂ وسعت کدۂ شوق ہوں، اے رشکمحفل سے مگر شمع کو دل تنگ نکالوں
۶
گر ہو بلدِ شوق مری خاک کو وحشتصحرا کو بھی گھر سے کئی فرسنگ نکالوں
۷
فریاد! اسدؔ غفلتِ رسوائیٔ دل سےکس پردے میں فریاد کی آہنگ نکالوں
۸۱ / ۱۹۳