دیوانِ غالب کاملردیف ر

دیا یاروں نے بے ہوشی میں درماں کا فریب آخر

۱

دیا یاروں نے بے ہوشی میں درماں کا فریب آخرہُوا سکتے سے میں آئینۂ دستِ طبیب آخر

۲

رگِ گل، جادۂ تارِ نگہ سے حد موافق ہےملیں گے منزلِ الفت میں ہم اور عندلیب آخر

۳

غرورِ ضبط، وقتِ نزع ٹوٹا بے قراری سےنیاز پر افشانی ہو گیا صبر و شکیب آخر

۴

ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیںتکلف بر طرف! مل جائے گا تجھ سا رقیب آخر

۵

اسدؔ کی طرح میری بھی بغیر از صبح رخساراںہوئی شامِ جوانی، اے دلِ حسرت نصیب، آخر

۴۳ / ۱۹۳