دیوانِ غالب کاملمتفرقات
متفرقات
نیازِ عشقِ خرمن سوز، اسبابِ ہوس بہترجو ہو جاوے نثارِ برق مشتِ خار و خس بہتر
یاد آیا جو وہ کہنا، کہ نہیں، واہ غلطکی تصور نے بہ صحرائے ہوس راہ غلط
شمشیر صافِ یار، جو زہراب دادہ ہووہ خط سبز ہے کہ بہ رخسارِ سادہ ہو
دیکھتا ہوں اسے، تھی جس کی تمنا مجھ کوآج بیداری میں ہے خوابِ زلیخا مجھ کو
ہنستے ہیں، دیکھ دیکھ کے، سب، ناتواں مجھےیہ رنگِ زرد، ہے چمنِ زعفراں مجھے
بتو! توبہ کرو، تم کیا ہو؟ جب اِدبار آتا ہےتو یوسف سا حسیں بِکنے سرِ بازار آتا ہے
زخمِ دل تم نے دُکھایا ہے کہ جی جانے ہےایسے ہنستے کو رلایا ہے کہ جی جانے ہے
طرز بیدل میں ریختہ کہنااسد اللّٰہ خان قیامت ہے
ملے دو مرشدوں کو قدرتِ حق سے ہیں دو طالبنظام الدینؔ کو خسروؔ، سراج الدینؔ کو غالبؔ
ان دل فریبیوں سے نہ کیوں اس پہ پیار آئے؟روٹھا جو بے گناہ، تو بے عذر من گیا
خوشی جینے کی کیا، مرنے کا غم کیاہماری زندگی کیا اور ہم کیا
مسجد کے زیرِ سایہ اِک گھر بنا لیا ہےیہ بندۂ کمینہ ہمسایۂ خدا ہے
دمِ واپسیں بر سرِ راہ ہےعزیزو، اب اللّٰہ ہی اللّٰہ ہے
۱۹۲ / ۱۹۳