بہ گمانِ قطعِ زحمت نہ دو چارِ خامشی ہو
بہ گمانِ قطعِ زحمت نہ دو چارِ خامشی ہوکہ زبانِ سرمہ آلود، نہیں تیغِ اصفہانی
Editors' notes
قصیدہ: اِس قصیدے کے کُل ۲۹ اشعار میں سے ۳ شعر غزل "جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانی" کے طور پر الگ سے متداول دیوان میں درج ہوئے ہیں۔ اس لیے اب یہ قصیدہ ۲۶ اشعار پر مشتمل ہے۔ — نسخۂ رضا
About this couplet
This is couplet 1 of 26 in “بہ گمانِ قطعِ زحمت نہ دو چارِ خامشی ہو” in the section Qasidas, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib Kamil (دیوانِ غالب کامل).
Read it in the poem۱ / ۲۶