دیوانِ غالب کاملقطعات

مژدہ! اے رہروانِ راہِ سخن

۱

مژدہ! اے رہروانِ راہِ سخنپایہ سنجانِ دست گاہِ سخن

۲

طے کرو راہِ شوق، زودا زودآن پہنچی ہے منزلِ مقصود

۳

پاس ہے اب، سوادِ اعظمِ نثردیکھیے، چل کے، نظمِ عالمِ نثر

۴

سب کو اس کا سوادِ ارزانی!چشمِ بینش ہو جس سے نورانی

۵

یہ تو دیکھو کہ کیا نظر آیاجلوۂ مدعا نظر آیا

۶

ہاں، یہی شاہ راہِ دہلی ہےمطبعِ بادشاہِ دہلی ہے

۷

منطبع ہو رہی ہے پنج آہنگگل و ریحان و لالہ رنگا رنگ

۸

ہے یہ وہ گلشنِ ہمیشہ بہاربارور جس کا سرو، بے خار

۹

نہیں اس کا جواب، عالم میںنہیں ایسی کتاب، عالم میں

۱۰

اس سے اندازِ شوکتِ تحریراخذ کرتا ہے آسماں کا دبیر

۱۱

مرحبا! طرزِ نغز گفتاریحبذا! رسم و راہِ نثاری

۱۲

نثر مدحت سرائے ابراہیمہے مقرر جو، اب، پئے تعلیم

۱۳

اس کے فقروں میں کون آتا ہےکیا کہیں، کیا وہ راگ گاتا ہے

۱۴

تین نثروں سے کام کیا نکلے؟ان کے پڑھنے سے نام کیا نکلے؟

۱۵

ورزشِ قصۂ کہن کب تک؟داستانِ شہِ دکن کب تک؟

۱۶

تا کجا درسِ نثر ہائے کہن؟تازہ کرتا ہے دل کو، تازہ سخن

۱۷

تھے ظہوریؔ و عرفیؔ و طالبؔاپنے اپنے زمانے میں غالب

۱۸

نہ ظہوری ہے اور نہ طالبؔ ہےاسد اللّٰہ خان غالبؔ ہے

۱۹

قول حافظؔ کا ہے بجا، اے دوست"ہر کرا پنج روز، نوبت اوست"

۲۰

کل وہ سرگرمِ خود نمائی تھےشمعِ بزمِ سخن سرائی تھے

۲۱

آج یہ قدر دانِ معنی ہےبادشاہِ جہانِ معنی ہے

۲۲

نثر اس کی، ہے کارنامہ رازنظم اس کی، نگار نامہ راز

۲۳

دیکھو اس دفترِ معانی کوسیکھو آئینِ نکتہ دانی کو

۲۴

اس سے جو کوئی بہرہ ور ہو گاسینہ گنجینہ گہر ہو گا

۲۵

ہو سخن کی جسے طلب گاریکرے اس نسخے کی خریداری

۲۶

آج جو دیدہ ور کرے درخواستتین بھیجے رُپے، وہ بے کم و کاست

۲۷

منطبع جب کہ ہو چکے گی کتابزرِ قیمت کا اور ہو گا حساب

۲۸

چار سے، پھر نہ ہو گی کم قیمتاس سے لیویں گے، کم، نہ ہم، قیمت

۲۹

جس کو منظور ہو کہ زر بھیجےاحسن اللّٰہ خاں کے گھر بھیجے

۳۰

وہ بہارِ ریاض و مہر و وفاجس کو کہتے ہیں عمدۃ الحکما

۳۱

میں جو ہوں درپے حصولِ شرفنام عاصی کا ہے غلام نجف

۳۲

ہے یہ، القصہ، حاصلِ تحریرکہ نہ ارسالِ زر میں ہو تاخیر

۳۳

چشمہ انطباع جاری ہےابتدائے ورق شماری ہے

۱۷۱ / ۱۹۳