عالم جہاں بہ عرضِ بساطِ وجود تھا
جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کارصحرا، مگر، بہ تنگیٔ چشمِ حُسُود تھا
Editors' notes
حسود: یہاں "حُسُود" کی جگہ "حَسُود" بھی پڑھا جاسکتا ہے۔ حُسُود = جمعِ حاسد۔ حَسُود = بہت حسد کرنے والا۔ — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 2 of 10 in “عالم جہاں بہ عرضِ بساطِ وجود تھا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۲ / ۱۰