Contents فہرست
ردیف الف
Ghazals — Radeef Alif
- نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا۱
- جنوں گرم انتظار و نالہ بے تابی کمند آیا۲
- عالم جہاں بہ عرضِ بساطِ وجود تھا۳
- کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا۴
- عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا۵
- دل میرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا۶
- شوق، ہر رنگ رقیبِ سر و ساماں نکلا۷
- دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا۸
- شمار سبحہ، "مرغوبِ بتِ مشکل" پسند آیا۹
- دہر میں نقشِ وفا وجہِ تسلی نہ ہوا۱۰
- ستائش گر ہے زاہد، اس قدر جس باغِ رضواں کا۱۱
- نہ ہو گا "یک بیاباں ماندگی" سے ذوق کم میرا۱۲
- ز بس خوں گشتۂ رشکِ وفا تھا وہم بسمل کا۱۳
- محرم نہیں ہے تو ہی، نوا ہائے راز کا۱۴
- بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا۱۵
- شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھا۱۶
- نالۂ دل میں شب اندازِ اثر نایاب تھا۱۷
- کس کا جنونِ دید تمنّا شکار تھا؟۱۸
- بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا۱۹
- شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا۲۰
- دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا۲۱
- یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا۲۲
- ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا۲۳
- درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا۲۴
- نہ بھولا اضطرابِ دم شماری، انتظار اپنا۲۵
- پئے نذرِ کرم تحفہ ہے "شرمِ نا رسائی" کا۲۶
- گر نہ اندوہِ شبِ فرقت بیاں ہو جائے گا۲۷
- درد مِنّت کشِ دوا نہ ہوا۲۸
- گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگیٔ جا کا۲۹
- قطرۂ مے بس کہ حیرت سے نفَس پرور ہوا۳۰
- جب بہ تقریبِ سفر یار نے محمل باندھا۳۱
- میں اور بزمِ مے سے یوں، تشنہ کام آؤں۳۲
- گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا۳۳
- نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا۳۴
- یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا۳۵
- وہ میری چینِ جبیں سے غمِ پنہاں سمجھا۳۶
- پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا۳۷
- ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا۳۸
- لبِ خشک در تشنگی، مردگاں کا۳۹
- تُو دوست کسی کا بھی، ستم گر! نہ ہوا تھا۴۰
- شب کہ وہ مجلس فروزِ خلوتِ ناموس تھا۴۱
- ضعفِ جنوں کو، وقتِ تپش، در بھی دور تھا۴۲
- بہ شغلِ انتظارِ مہ وشاں در خلوتِ شب ہا۴۳
- عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا۴۴
- خود پرستی سے رہے باہم دِگر نا آشنا۴۵
- ذکر اس پریوش کا اور پھر بیاں اپنا۴۶
- طاؤس در رکاب ہے ہر ذرّہ آہ کا۴۷
- خلوتِ آبلۂ پا میں ہے، جولاں میرا۴۸
- جَور سے باز آئے پر، باز آئیں کیا۴۹
- بہارِ رنگِ خونِ دل ہے ساماں اشک باری کا۵۰
- عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا۵۱
- رات، دل گرمِ خیالِ جلوۂ جانانہ تھا۵۲
- سیر آں سوئے تماشا ہے طلب گاروں کا۵۳
- نہ ہو حسنِ تماشا دوست، رسوا بے وفائی کا۵۴
- بس کہ فعّالِ ما یرید ہے آج۵۵
- بہ رہنِ شرم ہے با وصفِ شوخی اہتمام اس کا۵۶
- وردِ اسمِ حق سے، دیدارِ صنم حاصل ہوا۵۷
ردیف ب
Ghazals — Radeef Be
ردیف ت
Ghazals — Radeef Te
ردیف ج
Ghazals — Radeef Jeem
ردیف چ
Ghazals — Radeef Che
ردیف د
Ghazals — Radeef Daal
ردیف ر
Ghazals — Radeef Re
- بلا سے ہیں جو یہ پیشِ نظر، در و دیوار۶۷
- گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر۶۸
- کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کر۶۹
- لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پر۷۰
- ہے بس کہ ہر اک اُن کے اشارے میں نشاں اور۷۱
- صفائے حیرت آئینہ ہے سامانِ زنگ آخر۷۲
- فسونِ یک دلی ہے لذّتِ بیداد دشمن پر۷۳
- لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور۷۴
ردیف ز
Ghazals — Radeef Ze
ردیف س
Ghazals — Radeef Seen
ردیف ش
Ghazals — Radeef Sheen
ردیف ع
Ghazals — Radeef Ain
ردیف ف
Ghazals — Radeef Fe
ردیف ک
Ghazals — Radeef Kaaf
ردیف گ
Ghazals — Radeef Gaaf
ردیف ل
Ghazals — Radeef Laam
ردیف م
Ghazals — Radeef Meem
ردیف ن
Ghazals — Radeef Noon
- خوش وحشتے کہ عرضِ جنونِ فنا کروں۹۳
- وہ فراق اور وہ وصال کہاں۹۴
- کی وفا ہم سے، تو غیر اِس کو جفا کہتے ہیں۹۵
- آبرو کیا خاک اُس گُل کی، کہ گلشن میں نہیں۹۶
- آنسو کہوں کہ، آہ، سوارِ ہوا کہوں۹۷
- مہرباں ہو کے بلالو مجھے، چاہو جس وقت۹۸
- ہم سے کھل جاؤ بہ وقتِ مے پرستی ایک دن۹۹
- ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیں۱۰۰
- مانعِ دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں۱۰۱
- مت مردُمکِ دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں۱۰۲
- صاف ہے از بس کہ عکسِ گل سے، گل زار چمن۱۰۳
- عشق تاثیر سے نومید نہیں۱۰۴
- جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں۱۰۵
- ملتی ہے خُوئے یار سے نار التہاب میں۱۰۶
- کل کے لیے کر آج نہ خسّت شراب میں۱۰۷
- حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں۱۰۸
- ذکر میرا بہ بدی بھی، اُسے منظور نہیں۱۰۹
- نالہ جُز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد نہیں۱۱۰
- دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا۱۱۱
- ضبط سے مطلب بجز وارستگی دیگر نہیں۱۱۲
- سرشک آشفتہ سر تھا قطرہ زن مژگاں سے جانے میں۱۱۳
- ہے ترحم آفریں، آرائشِ بیداد، یاں۱۱۴
- یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں۱۱۵
- نہیں، کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں۱۱۶
- تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں۱۱۷
- تنِ بہ بندِ ہوس در نہ دادہ رکھتے ہیں۱۱۸
- دائم پڑا ہُوا ترے در پر نہیں ہُوں میں۱۱۹
- سب کہاں؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں۱۲۰
- دیوانگی سے دوش پہ زنّار بھی نہیں۱۲۱
- فزوں کی دوستوں نے حرصِ قاتل ذوقِ کشتن میں۱۲۲
- مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں۱۲۳
- دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟۱۲۴
- غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوں۱۲۵
- ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں۱۲۶
- دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں۱۲۷
ردیف و
Ghazals — Radeef Wao
- حسد سے دل اگر افسردہ ہے، گرمِ تماشا ہو۱۲۸
- آئی اگر بلا، تو جگہ سے ٹلے نہیں۱۲۹
- وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو۱۳۰
- قفس میں ہوں گر اچّھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو۱۳۱
- واں اس کو ہولِ دل ہے تو یاں میں ہوں شرمسار۱۳۲
- واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کو۱۳۳
- تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو۱۳۴
- گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہو۱۳۵
- کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو۱۳۶
- رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو۱۳۷
ردیف ہ
Ghazals — Radeef He
ردیف ی
Ghazals — Radeef Choti Ye
- صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیے۱۴۱
- مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے۱۴۲
- بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی۱۴۳
- ہے بزمِ بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے۱۴۴
- تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا۱۴۵
- گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا۱۴۶
- غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی۱۴۷
- حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامی۱۴۸
- کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے۱۴۹
- درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے۱۵۰
- سر گشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہے۱۵۱
- گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے۱۵۲
- نظر بہ نقصِ گدایاں، کمالِ بے ادبی ہے۱۵۳
- بس کہ حیرت سے ز پا افتادۂ زنہار ہے۱۵۴
- پِینَس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے۱۵۵
- یہ بزمِ مے پرستی، حسرتِ تکلیف بے جا ہے۱۵۶
- نشۂ مے، بے چمن، دودِ چراغِ کشتہ ہے۱۵۷
- چشمِ خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے۱۵۸
- عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی۱۵۹
- ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھے۱۶۰
- اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھے۱۶۱
- اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے۱۶۲
- رفتارِ عمر قطعِ رہِ اضطراب ہے۱۶۳
- دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے۱۶۴
- گرمِ فریاد رکھا شکلِ نہالی نے مجھے۱۶۵
- کار گاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہے۱۶۶
- فرصت، آئینۂ صد رنگِ خود آرائی ہے۱۶۷
- سادگی پر اس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہے۱۶۸
- دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی۱۶۹
- تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملے۱۷۰
- کوئی دن گر زندگانی اور ہے۱۷۱
- کوئی امّید بر نہیں آتی۱۷۲
- دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے۱۷۳
- کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئے۱۷۴
- پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے۱۷۵
- جنوں تہمت کشِ تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی۱۷۶
- نِکوہِش ہے سزا فریادیٔ بیدادِ دِلبر کی۱۷۷
- بے اعتدالیوں سے سبُک سب میں ہم ہوئے۱۷۸
- جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانی۱۷۹
- ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے۱۸۰
- آ، کہ مری جان کو قرار نہیں ہے۱۸۱
- میں انھیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں۱۸۲
- ہجومِ غم سے یاں تک سر نگونی مجھ کو حاصل ہے۱۸۳
- ہم زباں آیا نظر فکرِ سخن میں تُو مجھے۱۸۴
- جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے۱۸۵
- حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہے۱۸۶
- نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلّی نہ سہی۱۸۷
- عجب نشاط سے جلاّد کے چلے ہیں ہم آگے۱۸۸
- شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے۱۸۹
- ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے۱۹۰
- غیر لیں محفل میں بوسے جام کے۱۹۱
- پھر اس انداز سے بہار آئی۱۹۲
- تغافل دوست ہوں میرا دماغِ عجز عالی ہے۱۹۳
- کب وہ سنتا ہے کہانی میری۱۹۴
- تشنۂ خونِ تماشا جو وہ پانی مانگے۱۹۵
- گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہے۱۹۶
- جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی۱۹۷
- یوں بعدِ ضبطِ اشک پھروں گرد یار کے۱۹۸
- عاشق، نقابِ جلوۂ جانانہ چاہیے۱۹۹
- چاہیے اچھّوں کو، جتنا چاہیے۲۰۰
- ہر قدم دوریٔ منزل ہے نمایاں مجھ سے۲۰۱
- نکتہ چیں ہے، غمِ دل اُس کو سُنائے نہ بنے۲۰۲
- چاک کی خواہش، اگر وحشت بہ عُریانی کرے۲۰۳
- وہ آ کے، خواب میں، تسکینِ اضطراب تو دے۲۰۴
- تپِش سے میری، وقفِ کش مکش، ہر تارِ بستر ہے۲۰۵
- خطر ہے رشتۂ اُلفت رگِ گردن نہ ہو جائے۲۰۶
- فریاد کی کوئی لَے نہیں ہے۲۰۷
- بہارِ تعزیت آبادِ عشق، ماتم ہے۲۰۸
- ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے۲۰۹
- شفق بدعویٔ عاشق گواہِ رنگیں ہے۲۱۰
- دل سراپا وقفِ سودائے نگاہِ تیز ہے۲۱۱
- دیا ہے دل اگر اُس کو، بشر ہے، کیا کہیے۲۱۲
- دیکھ کر در پردہ گرمِ دامن افشانی مجھے۲۱۳
- یاد ہے شادی میں بھی، ہنگامۂ "یا رب"، مجھے۲۱۴
- حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے۲۱۵
- کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں، گر آجائے ہے، مُجھ سے۲۱۶
- ز بس کہ مشقِ تماشا جنوں علامت ہے۲۱۷
- لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھے۲۱۸
- بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے۲۱۹
- کہوں جو حال تو کہتے ہو "مدعا کہیے"۲۲۰
- رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے۲۲۱
- شوخیٔ مضرابِ جولاں، آبیارِ نغمہ ہے۲۲۲
- عرضِ نازِ شوخیٔ دنداں برائے خندہ ہے۲۲۳
- حسنِ بے پروا خریدارِ متاعِ جلوہ ہے۲۲۴
- جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئی۲۲۵
- ابنِ مریم ہوا کرے کوئی۲۲۶
- بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے؟۲۲۷
- باغ تجھ بن گلِ نرگس سے ڈراتا ہے مجھے۲۲۸
- روندی ہوئی ہے کوکبہ شہریار کی۲۲۹
- ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۲۳۰
- کوہ کے ہوں بارِ خاطر گر صدا ہو جائیے۲۳۱
- مستی، بہ ذوقِ غفلتِ ساقی ہلاک ہے۲۳۲
- غم و عشرت، قدم بوسِ دلِ تسلیم آئیں ہے۲۳۳
- دیکھتا ہوں وحشتِ شوقِ خروش آمادہ سے۲۳۴
- ہوں میں بھی تماشائیٔ نیرنگِ تمنا۲۳۵
- کہوں کیا گرم جوشی مے کشی میں شعلہ رویاں کی۲۳۶
- ہجومِ نالہ، حیرت عاجزِ عرضِ یک افغاں ہے۲۳۷
- خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے۲۳۸
- جس جا نسیم شانہ کشِ زلفِ یار ہے۲۳۹
- آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے۲۴۰
- شبنم بہ گلِ لالہ نہ خالی ز ادا ہے۲۴۱
- منظور تھی یہ شکل تجلّی کو نور کی۲۴۲
- غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہے۲۴۳
- مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے۲۴۴
- نویدِ امن ہے بیدادِ دوست، جاں کے لیے۲۴۵
- آپ نے مَسَّنيَ الضُّر کہا ہے تو سہی۲۴۶
- لطفِ نظّارۂ قاتِل دمِ بسمل آئے۲۴۷
- میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہی۲۴۸
قصائد
Qasidas
مثنوی
Masnavis
خمسہ: تضمین بر غزل بہادر شاہ ظفر
Mukhammas
مرثیہ
Marsiya
سلام
Salam
سہرے
Sehras
قطعات
Qitas
- گزارشِ غالبؔ۲۶۹
- گئے وہ دن کہ نا دانستہ غیروں کی وفاداری۲۷۰
- ہائے ہائے۲۷۱
- در مدحِ ڈلی۲۷۲
- بیسنی روٹی۲۷۳
- چہار شنبہ آخرِ ماہِ صفر۲۷۴
- روزہ۲۷۵
- طائرِ دل۲۷۶
- خطِ منظوم بنام علائی۲۷۷
- قطعہ تاریخ۲۷۸
- قطعہ تاریخ۲۷۹
- قطعہ تاریخ۲۸۰
- بلا عنوان۲۸۱
- سہل تھا مُسہل ولے یہ سخت مُشکل آ پڑی۲۸۲
- گو ایک بادشاہ کے سب خانہ زاد ہیں۲۸۳
- ایک اہلِ درد نے سنسان جو دیکھا قفس۲۸۴
- اے جہاں آفریں خدائے کریم۲۸۵
- گوڑ گانویں کی ہے جتنی رعیّت، وہ یک قلم۲۸۶
رباعیات
Rubaiyat
- شب زُلف و رُخِ عَرَق فِشاں کا غم تھا۲۸۷
- دل سخت نژند ہو گیا ہے گویا۲۸۸
- دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبؔ۲۸۹
- آتش بازی ہے جیسے شغلِ اطفال۲۹۰
- بعد از اِتمامِ بزمِ عیدِ اطفال۲۹۱
- مشکل ہے ز بس کلام میرا اے دل۲۹۲
- ہیں شہ میں صفاتِ ذوالجلالی باہم۲۹۳
- کہتے ہیں کہ اب وہ مَردُم آزار نہیں۲۹۴
- سامانِ خور و خواب کہاں سے لاؤں؟۲۹۵
- دل تھا، کہ جو جانِ دردِ تمہید سہی۲۹۶
- ہے خَلقِ حسد قماش لڑنے کے لیے۲۹۷
- بھیجی ہے جو مجھ کو شاہِ جَمِ جاہ نے دال۲۹۸
- حق شہ کی بقا سے خلق کو شاد کرے۲۹۹
- اِس رشتے میں لاکھ تار ہوں، بلکہ سِوا۳۰۰
- ہم گرچہ بنے سلام کرنے والے۳۰۱
- اِن سیم کے بِیجوں کو کوئی کیا جانے۳۰۲
- رقعے کا جواب کیوں نہ بھیجا تم نے۳۰۳
- اے روشنیٔ دیدہ شہاب الدیں خاں۳۰۴
- اے منشیٔ خیرہ سر! سخن ساز نہ ہو۳۰۵
- جن لوگوں کو ہے مجھ سے عداوت گہری۳۰۶
متفرقات
Miscellaneous verse