دیوانِ غالباردو1841

دیوانِ غالب

Diwan-e-Ghalib

The Divan of Ghalib

Urdu · 1841 · 307 poems · 2,790 couplets

غالبؔ کا متداول دیوان، مگرنسخۂ رضا اور نسخۂ حمیدیہ سے اضافوں کے ساتھ۔

Editors' notes (حواشی) on variant readings sit in the margin of each poem. Text from the Kulliyat-e-Ghalib web book, compiled by Juwairiya Masood from Nuskha-e-Urduweb and collated with the Arshi, Hamidia, Mehr and Raza editions; released into the public domain (CC0) at github.com/saadatm/ghalib.

Contents فہرست

ردیف الف

Ghazals — Radeef Alif

  1. نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا۱
  2. جنوں گرم انتظار و نالہ بے تابی کمند آیا۲
  3. عالم جہاں بہ عرضِ بساطِ وجود تھا۳
  4. کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا۴
  5. عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا۵
  6. دل میرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا۶
  7. شوق، ہر رنگ رقیبِ سر و ساماں نکلا۷
  8. دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا۸
  9. شمار سبحہ، "مرغوبِ بتِ مشکل" پسند آیا۹
  10. دہر میں نقشِ وفا وجہِ تسلی نہ ہوا۱۰
  11. ستائش گر ہے زاہد، اس قدر جس باغِ رضواں کا۱۱
  12. نہ ہو گا "یک بیاباں ماندگی" سے ذوق کم میرا۱۲
  13. ز بس خوں گشتۂ رشکِ وفا تھا وہم بسمل کا۱۳
  14. محرم نہیں ہے تو ہی، نوا ہائے راز کا۱۴
  15. بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا۱۵
  16. شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھا۱۶
  17. نالۂ دل میں شب اندازِ اثر نایاب تھا۱۷
  18. کس کا جنونِ دید تمنّا شکار تھا؟۱۸
  19. بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا۱۹
  20. شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا۲۰
  21. دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا۲۱
  22. یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا۲۲
  23. ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا۲۳
  24. درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا۲۴
  25. نہ بھولا اضطرابِ دم شماری، انتظار اپنا۲۵
  26. پئے نذرِ کرم تحفہ ہے "شرمِ نا رسائی" کا۲۶
  27. گر نہ اندوہِ شبِ فرقت بیاں ہو جائے گا۲۷
  28. درد مِنّت کشِ دوا نہ ہوا۲۸
  29. گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگیٔ جا کا۲۹
  30. قطرۂ مے بس کہ حیرت سے نفَس پرور ہوا۳۰
  31. جب بہ تقریبِ سفر یار نے محمل باندھا۳۱
  32. میں اور بزمِ مے سے یوں، تشنہ کام آؤں۳۲
  33. گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا۳۳
  34. نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا۳۴
  35. یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا۳۵
  36. وہ میری چینِ جبیں سے غمِ پنہاں سمجھا۳۶
  37. پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا۳۷
  38. ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا۳۸
  39. لبِ خشک در تشنگی، مردگاں کا۳۹
  40. تُو دوست کسی کا بھی، ستم گر! نہ ہوا تھا۴۰
  41. شب کہ وہ مجلس فروزِ خلوتِ ناموس تھا۴۱
  42. ضعفِ جنوں کو، وقتِ تپش، در بھی دور تھا۴۲
  43. بہ شغلِ انتظارِ مہ وشاں در خلوتِ شب ہا۴۳
  44. عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا۴۴
  45. خود پرستی سے رہے باہم دِگر نا آشنا۴۵
  46. ذکر اس پری‌وش کا اور پھر بیاں اپنا۴۶
  47. طاؤس در رکاب ہے ہر ذرّہ آہ کا۴۷
  48. خلوتِ آبلۂ پا میں ہے، جولاں میرا۴۸
  49. جَور سے باز آئے پر، باز آئیں کیا۴۹
  50. بہارِ رنگِ خونِ دل ہے ساماں اشک باری کا۵۰
  51. عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا۵۱
  52. رات، دل گرمِ خیالِ جلوۂ جانانہ تھا۵۲
  53. سیر آں سوئے تماشا ہے طلب گاروں کا۵۳
  54. نہ ہو حسنِ تماشا دوست، رسوا بے وفائی کا۵۴
  55. بس کہ فعّالِ ما یرید ہے آج۵۵
  56. بہ رہنِ شرم ہے با وصفِ شوخی اہتمام اس کا۵۶
  57. وردِ اسمِ حق سے، دیدارِ صنم حاصل ہوا۵۷

ردیف ب

Ghazals — Radeef Be

  1. پھر ہوا وقت کہ ہو بال کُشا موجِ شراب۵۸

ردیف ت

Ghazals — Radeef Te

  1. جاتا ہوں جدھر سب کی اُٹھے ہے اُدھر انگشت۵۹
  2. رہا گر کوئی تا قیامت سلامت۶۰
  3. آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست۶۱
  4. مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالبؔ۶۲

ردیف ج

Ghazals — Radeef Jeem

  1. گلشن میں بند و بست، بہ رنگِ دگر ہے، آج۶۳
  2. لو ہم مریضِ عشق کے بیماردار ہیں۶۴

ردیف چ

Ghazals — Radeef Che

  1. نفَس نہ انجمنِ آرزو سے باہر کھینچ۶۵

ردیف د

Ghazals — Radeef Daal

  1. حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد۶۶

ردیف ر

Ghazals — Radeef Re

  1. بلا سے ہیں جو یہ پیشِ نظر، در و دیوار۶۷
  2. گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر۶۸
  3. کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کر۶۹
  4. لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پر۷۰
  5. ہے بس کہ ہر اک اُن کے اشارے میں نشاں اور۷۱
  6. صفائے حیرت آئینہ ہے سامانِ زنگ آخر۷۲
  7. فسونِ یک دلی ہے لذّتِ بیداد دشمن پر۷۳
  8. لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور۷۴

ردیف ز

Ghazals — Radeef Ze

  1. حریفِ مطلبِ مشکل نہیں فسونِ نیاز۷۵
  2. بے گانۂ وفا ہے ہوائے چمن ہنوز۷۶
  3. کیوں کر اس بت سے رکھوں جان عزیز!۷۷
  4. داغِ اطفال ہے دیوانہ بہ کہسار ہنوز۷۸
  5. نہ گل نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز۷۹

ردیف س

Ghazals — Radeef Seen

  1. کب فقیروں کو رسائی بُتِ مے خوار کے پاس۸۰

ردیف ش

Ghazals — Radeef Sheen

  1. ہوئی ہے بس کہ صرفِ مشقِ تمکینِ بہار آتش۸۱

ردیف ع

Ghazals — Radeef Ain

  1. جادۂ رہ خُور کو وقتِ شام ہے تارِ شعاع۸۲
  2. رُخِ نگار سے ہے سوزِ جاودانیٔ شمع۸۳

ردیف ف

Ghazals — Radeef Fe

  1. نامہ بھی لکھتے ہو، تو بہ خطِ غبار، حیف!۸۴

ردیف ک

Ghazals — Radeef Kaaf

  1. زخم پر چھڑکیں کہاں طفلانِ بے پروا نمک۸۵
  2. آہ کو چاہیے اِک عُمر اثر ہونے تک۸۶
  3. دیکھنے میں ہیں گرچہ دو، پر ہیں یہ دونوں یار ایک۸۷

ردیف گ

Ghazals — Radeef Gaaf

  1. گر تُجھ کو ہے یقینِ اجابت، دُعا نہ مانگ۸۸

ردیف ل

Ghazals — Radeef Laam

  1. ہے کس قدر ہلاکِ فریبِ وفائے گُل۸۹

ردیف م

Ghazals — Radeef Meem

  1. بس کہ ہیں بد مستِ بشکن بشکنِ مے خانہ ہم۹۰
  2. اثر کمندیٔ فریادِ نارسا معلوم۹۱
  3. مجھ کو دیارِ غیر میں مارا، وطن سے دور۹۲

ردیف ن

Ghazals — Radeef Noon

  1. خوش وحشتے کہ عرضِ جنونِ فنا کروں۹۳
  2. وہ فراق اور وہ وصال کہاں۹۴
  3. کی وفا ہم سے، تو غیر اِس کو جفا کہتے ہیں۹۵
  4. آبرو کیا خاک اُس گُل کی، کہ گلشن میں نہیں۹۶
  5. آنسو کہوں کہ، آہ، سوارِ ہوا کہوں۹۷
  6. مہرباں ہو کے بلالو مجھے، چاہو جس وقت۹۸
  7. ہم سے کھل جاؤ بہ وقتِ مے پرستی ایک دن۹۹
  8. ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیں۱۰۰
  9. مانعِ دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں۱۰۱
  10. مت مردُمکِ دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں۱۰۲
  11. صاف ہے از بس کہ عکسِ گل سے، گل زار چمن۱۰۳
  12. عشق تاثیر سے نومید نہیں۱۰۴
  13. جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں۱۰۵
  14. ملتی ہے خُوئے یار سے نار التہاب میں۱۰۶
  15. کل کے لیے کر آج نہ خسّت شراب میں۱۰۷
  16. حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں۱۰۸
  17. ذکر میرا بہ بدی بھی، اُسے منظور نہیں۱۰۹
  18. نالہ جُز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد نہیں۱۱۰
  19. دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا۱۱۱
  20. ضبط سے مطلب بجز وارستگی دیگر نہیں۱۱۲
  21. سرشک آشفتہ سر تھا قطرہ زن مژگاں سے جانے میں۱۱۳
  22. ہے ترحم آفریں، آرائشِ بیداد، یاں۱۱۴
  23. یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں۱۱۵
  24. نہیں، کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں۱۱۶
  25. تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں۱۱۷
  26. تنِ بہ بندِ ہوس در نہ دادہ رکھتے ہیں۱۱۸
  27. دائم پڑا ہُوا ترے در پر نہیں ہُوں میں۱۱۹
  28. سب کہاں؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں۱۲۰
  29. دیوانگی سے دوش پہ زنّار بھی نہیں۱۲۱
  30. فزوں کی دوستوں نے حرصِ قاتل ذوقِ کشتن میں۱۲۲
  31. مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں۱۲۳
  32. دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟۱۲۴
  33. غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوں۱۲۵
  34. ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں۱۲۶
  35. دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں۱۲۷

ردیف و

Ghazals — Radeef Wao

  1. حسد سے دل اگر افسردہ ہے، گرمِ تماشا ہو۱۲۸
  2. آئی اگر بلا، تو جگہ سے ٹلے نہیں۱۲۹
  3. وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو۱۳۰
  4. قفس میں ہوں گر اچّھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو۱۳۱
  5. واں اس کو ہولِ دل ہے تو یاں میں ہوں شرمسار۱۳۲
  6. واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کو۱۳۳
  7. تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو۱۳۴
  8. گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہو۱۳۵
  9. کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو۱۳۶
  10. رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو۱۳۷

ردیف ہ

Ghazals — Radeef He

  1. شبِ وصال میں مونس گیا ہے بَن تکیہ۱۳۸
  2. از مہر تا بہ ذرّہ دل و دل ہے آئینہ۱۳۹
  3. جز، دل سراغِ درد بدل خفتگاں نہ پوچھ۱۴۰

ردیف ی

Ghazals — Radeef Choti Ye

  1. صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیے۱۴۱
  2. مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے۱۴۲
  3. بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی۱۴۳
  4. ہے بزمِ بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے۱۴۴
  5. تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا۱۴۵
  6. گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا۱۴۶
  7. غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی۱۴۷
  8. حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامی۱۴۸
  9. کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے۱۴۹
  10. درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے۱۵۰
  11. سر گشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہے۱۵۱
  12. گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے۱۵۲
  13. نظر بہ نقصِ گدایاں، کمالِ بے ادبی ہے۱۵۳
  14. بس کہ حیرت سے ز پا افتادۂ زنہار ہے۱۵۴
  15. پِینَس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے۱۵۵
  16. یہ بزمِ مے پرستی، حسرتِ تکلیف بے جا ہے۱۵۶
  17. نشۂ مے، بے چمن، دودِ چراغِ کشتہ ہے۱۵۷
  18. چشمِ خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے۱۵۸
  19. عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی۱۵۹
  20. ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھے۱۶۰
  21. اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھے۱۶۱
  22. اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے۱۶۲
  23. رفتارِ عمر قطعِ رہِ اضطراب ہے۱۶۳
  24. دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے۱۶۴
  25. گرمِ فریاد رکھا شکلِ نہالی نے مجھے۱۶۵
  26. کار گاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہے۱۶۶
  27. فرصت، آئینۂ صد رنگِ خود آرائی ہے۱۶۷
  28. سادگی پر اس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہے۱۶۸
  29. دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی۱۶۹
  30. تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملے۱۷۰
  31. کوئی دن گر زندگانی اور ہے۱۷۱
  32. کوئی امّید بر نہیں آتی۱۷۲
  33. دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے۱۷۳
  34. کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئے۱۷۴
  35. پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے۱۷۵
  36. جنوں تہمت کشِ تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی۱۷۶
  37. نِکوہِش ہے سزا فریادیٔ بیدادِ دِلبر کی۱۷۷
  38. بے اعتدالیوں سے سبُک سب میں ہم ہوئے۱۷۸
  39. جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانی۱۷۹
  40. ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے۱۸۰
  41. آ، کہ مری جان کو قرار نہیں ہے۱۸۱
  42. میں انھیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں۱۸۲
  43. ہجومِ غم سے یاں تک سر نگونی مجھ کو حاصل ہے۱۸۳
  44. ہم زباں آیا نظر فکرِ سخن میں تُو مجھے۱۸۴
  45. جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے۱۸۵
  46. حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہے۱۸۶
  47. نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلّی نہ سہی۱۸۷
  48. عجب نشاط سے جلاّد کے چلے ہیں ہم آگے۱۸۸
  49. شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے۱۸۹
  50. ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے۱۹۰
  51. غیر لیں محفل میں بوسے جام کے۱۹۱
  52. پھر اس انداز سے بہار آئی۱۹۲
  53. تغافل دوست ہوں میرا دماغِ عجز عالی ہے۱۹۳
  54. کب وہ سنتا ہے کہانی میری۱۹۴
  55. تشنۂ خونِ تماشا جو وہ پانی مانگے۱۹۵
  56. گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہے۱۹۶
  57. جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی۱۹۷
  58. یوں بعدِ ضبطِ اشک پھروں گرد یار کے۱۹۸
  59. عاشق، نقابِ جلوۂ جانانہ چاہیے۱۹۹
  60. چاہیے اچھّوں کو، جتنا چاہیے۲۰۰
  61. ہر قدم دوریٔ منزل ہے نمایاں مجھ سے۲۰۱
  62. نکتہ چیں ہے، غمِ دل اُس کو سُنائے نہ بنے۲۰۲
  63. چاک کی خواہش، اگر وحشت بہ عُریانی کرے۲۰۳
  64. وہ آ کے، خواب میں، تسکینِ اضطراب تو دے۲۰۴
  65. تپِش سے میری، وقفِ کش مکش، ہر تارِ بستر ہے۲۰۵
  66. خطر ہے رشتۂ اُلفت رگِ گردن نہ ہو جائے۲۰۶
  67. فریاد کی کوئی لَے نہیں ہے۲۰۷
  68. بہارِ تعزیت آبادِ عشق، ماتم ہے۲۰۸
  69. ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے۲۰۹
  70. شفق بدعویٔ عاشق گواہِ رنگیں ہے۲۱۰
  71. دل سراپا وقفِ سودائے نگاہِ تیز ہے۲۱۱
  72. دیا ہے دل اگر اُس کو، بشر ہے، کیا کہیے۲۱۲
  73. دیکھ کر در پردہ گرمِ دامن افشانی مجھے۲۱۳
  74. یاد ہے شادی میں بھی، ہنگامۂ "یا رب"، مجھے۲۱۴
  75. حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے۲۱۵
  76. کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں، گر آجائے ہے، مُجھ سے۲۱۶
  77. ز بس کہ مشقِ تماشا جنوں علامت ہے۲۱۷
  78. لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھے۲۱۸
  79. بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے۲۱۹
  80. کہوں جو حال تو کہتے ہو "مدعا کہیے"۲۲۰
  81. رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے۲۲۱
  82. شوخیٔ مضرابِ جولاں، آبیارِ نغمہ ہے۲۲۲
  83. عرضِ نازِ شوخیٔ دنداں برائے خندہ ہے۲۲۳
  84. حسنِ بے پروا خریدارِ متاعِ جلوہ ہے۲۲۴
  85. جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئی۲۲۵
  86. ابنِ مریم ہوا کرے کوئی۲۲۶
  87. بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے؟۲۲۷
  88. باغ تجھ بن گلِ نرگس سے ڈراتا ہے مجھے۲۲۸
  89. روندی ہوئی ہے کوکبہ شہریار کی۲۲۹
  90. ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۲۳۰
  91. کوہ کے ہوں بارِ خاطر گر صدا ہو جائیے۲۳۱
  92. مستی، بہ ذوقِ غفلتِ ساقی ہلاک ہے۲۳۲
  93. غم و عشرت، قدم بوسِ دلِ تسلیم آئیں ہے۲۳۳
  94. دیکھتا ہوں وحشتِ شوقِ خروش آمادہ سے۲۳۴
  95. ہوں میں بھی تماشائیٔ نیرنگِ تمنا۲۳۵
  96. کہوں کیا گرم جوشی مے کشی میں شعلہ رویاں کی۲۳۶
  97. ہجومِ نالہ، حیرت عاجزِ عرضِ یک افغاں ہے۲۳۷
  98. خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے۲۳۸
  99. جس جا نسیم شانہ کشِ زلفِ یار ہے۲۳۹
  100. آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے۲۴۰
  101. شبنم بہ گلِ لالہ نہ خالی ز ادا ہے۲۴۱
  102. منظور تھی یہ شکل تجلّی کو نور کی۲۴۲
  103. غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہے۲۴۳
  104. مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے۲۴۴
  105. نویدِ امن ہے بیدادِ دوست، جاں کے لیے۲۴۵
  106. آپ نے مَسَّنيَ الضُّر کہا ہے تو سہی۲۴۶
  107. لطفِ نظّارۂ قاتِل دمِ بسمل آئے۲۴۷
  108. میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہی۲۴۸

قصائد

Qasidas

  1. منقبتِ حیدری۲۴۹
  2. منقبت (حضرت علی کے لیے)۲۵۰
  3. مدحِ شاہ۲۵۱
  4. مدحِ شاہ۲۵۲
  5. ایلین براؤن۲۵۳
  6. والیٔ الور کی سالگرہ پر۲۵۴
  7. میکلوڈ صاحب کی خدمت میں۲۵۵
  8. نوّاب یوسف علی خاں۲۵۶
  9. مدحِ نصرت الملک بہادر۲۵۷
  10. در مدحِ شاہ۲۵۸
  11. گزارشِ مصنّف بہ حضورِ شاہ۲۵۹

مثنوی

Masnavis

  1. در صفتِ انبہ۲۶۰
  2. پتنگِ کاغذی۲۶۱

خمسہ: تضمین بر غزل بہادر شاہ ظفر

Mukhammas

  1. خمسہ: تضمین بر غزل بہادر شاہ ظفر۲۶۲

مرثیہ

Marsiya

  1. مرثیہ۲۶۳

سلام

Salam

  1. سلام۲۶۴

سہرے

Sehras

  1. خوش ہو اے بخت۲۶۵
  2. ہم نشیں تارے ہیں۲۶۶
  3. چرخ تک دھوم ہے۲۶۷
  4. بیانِ مصنّف۲۶۸

قطعات

Qitas

  1. گزارشِ غالبؔ۲۶۹
  2. گئے وہ دن کہ نا دانستہ غیروں کی وفاداری۲۷۰
  3. ہائے ہائے۲۷۱
  4. در مدحِ ڈلی۲۷۲
  5. بیسنی روٹی۲۷۳
  6. چہار شنبہ آخرِ ماہِ صفر۲۷۴
  7. روزہ۲۷۵
  8. طائرِ دل۲۷۶
  9. خطِ منظوم بنام علائی۲۷۷
  10. قطعہ تاریخ۲۷۸
  11. قطعہ تاریخ۲۷۹
  12. قطعہ تاریخ۲۸۰
  13. بلا عنوان۲۸۱
  14. سہل تھا مُسہل ولے یہ سخت مُشکل آ پڑی۲۸۲
  15. گو ایک بادشاہ کے سب خانہ زاد ہیں۲۸۳
  16. ایک اہلِ درد نے سنسان جو دیکھا قفس۲۸۴
  17. اے جہاں آفریں خدائے کریم۲۸۵
  18. گوڑ گانویں کی ہے جتنی رعیّت، وہ یک قلم۲۸۶

رباعیات

Rubaiyat

  1. شب زُلف و رُخِ عَرَق فِشاں کا غم تھا۲۸۷
  2. دل سخت نژند ہو گیا ہے گویا۲۸۸
  3. دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبؔ۲۸۹
  4. آتش بازی ہے جیسے شغلِ اطفال۲۹۰
  5. بعد از اِتمامِ بزمِ عیدِ اطفال۲۹۱
  6. مشکل ہے ز بس کلام میرا اے دل۲۹۲
  7. ہیں شہ میں صفاتِ ذوالجلالی باہم۲۹۳
  8. کہتے ہیں کہ اب وہ مَردُم آزار نہیں۲۹۴
  9. سامانِ خور و خواب کہاں سے لاؤں؟۲۹۵
  10. دل تھا، کہ جو جانِ دردِ تمہید سہی۲۹۶
  11. ہے خَلقِ حسد قماش لڑنے کے لیے۲۹۷
  12. بھیجی ہے جو مجھ کو شاہِ جَمِ جاہ نے دال۲۹۸
  13. حق شہ کی بقا سے خلق کو شاد کرے۲۹۹
  14. اِس رشتے میں لاکھ تار ہوں، بلکہ سِوا۳۰۰
  15. ہم گرچہ بنے سلام کرنے والے۳۰۱
  16. اِن سیم کے بِیجوں کو کوئی کیا جانے۳۰۲
  17. رقعے کا جواب کیوں نہ بھیجا تم نے۳۰۳
  18. اے روشنیٔ دیدہ شہاب الدیں خاں۳۰۴
  19. اے منشیٔ خیرہ سر! سخن ساز نہ ہو۳۰۵
  20. جن لوگوں کو ہے مجھ سے عداوت گہری۳۰۶

متفرقات

Miscellaneous verse

  1. متفرقات۳۰۷