عالم جہاں بہ عرضِ بساطِ وجود تھا

لیتا ہوں مکتبِ غمِ دل میں سبق ہنوزلیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا

Editors' notes

اشعار: یہ اور اگلا شعر نسخۂ رضا کی ایک اور غزل کا حصہ ہیں جس کا مطلع ہے: ؎ تنگی رفیقِ رہ تھی، عدم یا وجود تھا میرا سفر بہ طالعِ چشمِ حسود تھا — جویریہ مسعود

About this couplet

This is couplet 7 of 10 in “⁨عالم جہاں بہ عرضِ بساطِ وجود تھا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۷ / ۱۰